Monday, April 20, 2020

Aik jga kuch larkiya

Story Name
Full Story : اگر ایک جگہ کچھ لڑکیاں بیٹھی ہوں اور کسی کا بھائی وہاں سے گزرے تو کوئی ایک لڑکی اچانک بول اٹھتی ہے’’شازیہ ! تمہارا بھائی کتنا ہینڈ سم ہے‘ یہ تو ایک دم ہیرو ہے‘‘۔ لیکن اگر ایک جگہ کچھ لڑکے بیٹھے ہوں اور کسی کی بہن وہاں سے گذرے تو کیا کوئی لڑکا ایسا جملہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے؟؟؟ نہیں کر سکتا ناں!
اس لیے کہ سوسائٹی نے طے کردیا ہے کہ ایسے جملے صرف لڑکیاں کہہ سکیں گی‘ لڑکے نہیں

میں بھی یہی کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی مذہب سے کہیں زیادہ طاقتور سوسائٹی ہوچکی ہے۔دوسری شادی کرنا کوئی جرم نہیں‘ لیکن بیوی جتنی مرضی مذہبی ہو وہ ہر گز ہرگز اِس چیز کو تسلیم نہیں کرتی اور سوتن کے نام پر خونخوار ہوجاتی ہے۔

اسی طرح مذہب میں شادی کے لیے بالغ مرد و عورت کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں‘ 90 سال کا بابا20 سال کی لڑکی سے شادی کرسکتاہے اور 80 سال کی مائی کسی 25 سالہ جوان لڑکے سے شادی کر سکتی ہے‘ لیکن دیکھ لیجئے‘ ایسا جب بھی ہوتاہے سوسائٹی میں طنز کے تیر چلنا شروع ہوجاتے ہیں حالانکہ مذہب میں ’’بے جوڑشادی‘‘ کا کوئی تصور نہیں‘اگر عورت اور مرد بالغ ہیں تو پھر دونوں کی عمروں میں 100 سال کا فرق ہی کیوں نہ ہو‘ وہ شادی کر سکتے ہیں۔ہماری سوسائٹی میں تو لوگ جوان اولاد کے ہوتے ہوئے مزید اولاد پیدا کرنے سے بھی شرماتے ہیں کیونکہ سوسائٹی اسے اچھا نہیں سمجھتی۔

آج سے آٹھ سال پہلے میرے ایک دوست کو دوسرے فرقے کی لڑکی سے محبت ہوگئی‘ لڑکی بھی واری واری جارہی تھی‘ خاندان میں بڑی لڑائیاں ہوئیں‘ تھانے کچہری تک نوبت پہنچی‘ لیکن پھر ہوا وہی جو ہوتا چلا آیا ہے‘ دونوں کی شادی ہوگئی‘ شادی کے شروع کے د ن تو بہت اچھے گذرے‘ لیکن پہلا بچہ پیدا ہوتے ہی ’’فرقہ وارانہ فسادات‘‘شروع ہوگئے۔میرا دوست اپنے بیٹے کا نام اپنے فرقے کے مطابق رکھنا چاہتا تھا‘ لڑکی اپنے فرقے کی حامی تھی‘ خیر کسی نہ کسی طرح نام کا مسئلہ تو حل ہوگیا لیکن تین سال بعد ایک اور نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا کہ لڑکے کو کس فرقے کی مذہبی تعلیم دی جائے؟ دونوں اپنے اپنے فرقے پر ڈٹے ہوئے تھے‘ یہ سوچے بغیر کہ اگر فرقہ طاقتور ہوتا تو وہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے شادی پر رضامند نہ ہوتے‘ شادی کرتے وقت دونوں نے فرقے بازی کو ہوا میں اڑا دیا‘ لیکن محبت کا خمار اترتے ہی دوبارہ اسی دلدل میں جا پڑے۔
مستحق کا زکواۃ لینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا صاحبِ حیثیت کا زکواۃ ادا کرنا‘ لیکن دیکھ لیجئے‘ زکواۃ لینا گالی بن گیا ہے‘ مجبور سے مجبور شریف آدمی بھی ادھارلینا گوارا کر لیتاہے‘ زکواۃ نہیں لیتا ‘حالانکہ ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی جو شخص زکواۃ نہیں لیتا وہ بھی ایک طرح سے گنہگار ہی ٹھہرتاہے کیونکہ اگر وہ زکواۃ نہیں لے گا تو کوئی دوسرا غیر مستحق یہ رقم لے اڑے گا

۔اصل میں سوسائٹی اپنے آپ میں بڑی ظالم چیز ہے‘ یہ معاشرتی معاملات کو دیکھتے ہوئے اپنے ضابطے خود طے کرلیتی ہے‘ یہ مذہب کو مانتی تو ہے لیکن صرف عبادات کی حد تک‘ عملی معاملات میں یہ صرف اپنے اصولوں کو ترجیح دیتی ہے۔

پسند کی شادی مذہب میں کوئی جرم نہیں‘ لیکن ہماری سوسائٹی میں یہ اب بھی کسی حد تک ناپسندیدہ چیز ہی سمجھی جاتی ہے۔مذہب کہتا ہے کہ بچے بالغ ہوجائیں تو جلد سے جلد ان کی شادی کردو‘ لیکن سوسائٹی کہتی ہے کہ صرف بالغ نہیں‘ میچورہونا ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بہت کم ایسے لڑکے لڑکیاں ہیں جو 18 سال کی عمر کو پہنچتے ہی شادی شدہ ہوجاتے ہیں۔مذہب کہتا ہے کہ اولاد کو حرام کے لقمے سے بچاؤ‘ سوسائٹی کہتی ہے کہ نہیں‘ اولاد کے لیے جوکچھ ہوسکتا ہے کر گذرو ‘ مذہب ذات برادری کو محض پہچان کا ذریعہ قرار دیتا ہے‘ لیکن سوسائٹی اِسے باعثِ فخر قرار دیتی ہے۔

کبھی غور کیجئے گا‘ سوسائٹی کے اصول کوئی نہیں بناتا‘ یہ اپنا آئین خود تحریر کرتی ہے اور لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی اس پر عمل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ کسی بھی مذہب کے بغیر شائد زندہ رہا جاسکتا ہے‘ سوسائٹی کے بغیر نہیں ‘ اور فی زمانہ کوئی مذہبی سے مذہبی شخص بھی سوسائٹی سے رشتہ توڑنے کو تیار نہیں۔مذہب اور سوسائٹی کے اسی دوغلے معیار نے ہمارے قول و فعل میں عجیب سا تضاد بھر دیا ہے‘ دین و دنیا کو اپنی چالاکی سے رام کرتے کرتے ہم عجیب سی مخلوق بن گئے ہیں‘

شب برات پر ہم صرف اُن لوگوں سے معافیاں مانگیں گے جن سے ہماری کوئی ناراضی ہی نہیں‘ جن رشتے داروں اور دوستوں سے ہماری چپقلش چل رہی ہے اُن کے بارے میں یہی سوچیں گے کہ پہلے وہ ہم سے معافی مانگیں۔

رمضان شروع ہوگا تو ہمیشہ کی طرح گندے تیل میں پکے ہوئے پکوڑے سموسے ہر گلی میں تیار ہوتے نظر آئیں گے‘ عید کے دنوں میں مہنگائی کا حال دیکھئے گا‘ مزے کی بات ہے کہ جو لوگ مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی میں مصروف ہوں گے اُن میں سے اکثریت کا روزہ ہوگا اور اتنا کڑا روزہ ہوگا کہ اگر ان کے ہاں کوئی مہمان بھی آجائے تو رمضان کے احترام میں اُسے یہ تک نہیں پوچھیں گے کہ بھائی آپ کو بھوک تو نہیں لگی‘ آپ نے پانی تو نہیں پینا؟؟؟
منقول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسنین رضا



No comments:

Post a Comment

Kuch din phly

Full Story : کچھ دن پہلے فیس بک ہر میرے پاس ایک فرینڈ ریکویسٹ آئی. یہ کسی ماھین نورکے نام سے تھی. عموما میرے پاس مردوں کی ریکویسٹ تو آتی ...