Monday, April 20, 2020

Hero


Full Story : ہیروز کو پہچانیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس بارہ سالہ یتیم بچی سڑک کنارے گاڑی کا انتظار کر رہی تھی، ایک پرائیویٹ سکول کے پرنسپل وہاں سے گزرے تو پوچھا: بیٹا آپ کونسے سکول میں پڑھتی ہیں۔ بچی نے کہا فلاں گورنمنٹ سکول (جو گاؤں سے خاصا دور ہے) پرنسپل نے کہا بیٹا گھر جائیں اور اپنی امی سے کہیں کہ آپ کے دوسرے بہن بھائیوں کو لے کر میرے سکول آ جائیں۔ تھوڑی دیر بعد سکول کے آفس میں تینوں بہن بھائیوں کا داخلہ فارم فل ہوا اور اب وہ یتیم بچے بنا فیس دیے، گھر کے قریب ایک اچھے پرائیویٹ سکول میں پڑھتے ہیں۔۔۔
تعلیمی اداروں میں ایسے لوگ ہمارے ہیرو ہیں۔۔
گھر پر تھا، فون کی گھنٹی بجی، سولہ سترہ سالہ ایک نوجوان کا میسج تھا کہ ہم راشن فراہمی کے ایک پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں، آپ کی مدد چاہیے۔۔ نوجوان کو گھر بلایا، ان کے ساتھ ایک اور نوجوان بھی تھے۔ گھنٹہ دو گھنٹہ گفتگو ہوئی تو پتہ چلا کہ تین چار سال سے بلڈ ڈونیشن، آرفن کڈز کی کیئر، کیریئر کاؤنسلنگ اور سفید پوش لوگوں کو رمضان میں راشن فراہمی کا بندوبست کرتے ہیں۔۔ سات دوست ہیں جو مل کر فنڈز فراہمی کا کام کرتے اور اپنے تئیں مختلف فلاحی پراجیکٹس کے ذریعے انسانیت کی خدمت اور شعور و آگہی پھیلانے کے لیے دل و جان لگائے بیٹھے ہیں۔۔
نوجوانوں میں ایسے لوگ ہمارے ہیرو ہیں۔۔
کئی ایسے ادھیڑ عمر لوگوں کو جانتا ہوں جو جہاں بیٹھیں علم و فکر کی کرنیں بکھیرتے ہیں، سیاسیات، سماجیات اور اخلاقیات پر عمدہ اور غیر تعصبانہ تبصرے کرتے ہیں اور دلنشین پیرائے میں رہنمائی دیتے ہیں۔۔ خوبصورت بات یہ ہے کہ تعلیم و تربیت کے اس عمل میں وہ لوگ کسی کے ساتھ جانبداری یا تعصب پر مبنی رویہ روا نہیں رکھتے۔۔
بزرگوں میں ایسے لوگ ہمارے ہیرو ہیں۔۔
آئیے اپنا میدان چنیں اور ان ہیروز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نفع رساں انسان بن کر انسانیت کی خدمت کریں۔۔
وقاص خان


Here Are More Stories You Should Read: Click on this Link :
 https://play.google.com/store/apps/details

No comments:

Post a Comment

Kuch din phly

Full Story : کچھ دن پہلے فیس بک ہر میرے پاس ایک فرینڈ ریکویسٹ آئی. یہ کسی ماھین نورکے نام سے تھی. عموما میرے پاس مردوں کی ریکویسٹ تو آتی ...